خوش فہمیوں کے سمندر میں حقیقت کا وجود ایک جزیرے کی طرح ہے، جس سے گزرے بغیر کنارہ ملنا نہ ممکن ہے۔ ببول پر گلاب بھی اچھے لگتے ہیں، ساحلوں کی ریت گھروندے نہیں بنا سکتی، ہوا میں محل کھڑا کرنا بھی بیوقوفی کی انتہا ہوتی ہے مگر اِن سب کے باوجود انسان کے اندر سے اُمید اور خوش گمانی بھی ختم نہیں ہو سکتی۔
اُمید زندگی کی روح ہے۔ یہ ختم ہو جائے تو زندگی بے روح ہو جاتی ہے۔ یہ اُمید ہی تو ہے جو انسان کو آگے کی طرف دیکھنے کی ہمت اور قدم اُٹھانے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ہر آنے والا دن کا استقبال انسان صرف اُمید ہی کی وجہ سے تو کرتا ہے۔
Saturday, December 9th, 2006
Daily Archive
December 9, 2006