مقدر کو ایک پل یا شاید پل کا بھی ہزاروں حصہ لگتا ہے کسی انسان کو تخیل کی دنیا سے حقیقت کے تپتے ہوئے صھرا میں پٹختے ہوئے۔ ایک ایسی حقیقت جیس سے اُس شخص کے ہاتھ میں پکڑے امید کے سارے دیے ہی بج جاتے ہیں اور وہ حیراں ہو کہ یہ اچانک اُس کے ساتھ ہوا کیا۔