مقدر کو ایک پل یا شاید پل کا بھی ہزاروں حصہ لگتا ہے کسی انسان کو تخیل کی دنیا سے حقیقت کے تپتے ہوئے صھرا میں پٹختے ہوئے۔ ایک ایسی حقیقت جیس سے اُس شخص کے ہاتھ میں پکڑے امید کے سارے دیے ہی بج جاتے ہیں اور وہ حیراں ہو کہ یہ اچانک اُس کے ساتھ ہوا کیا۔
November 18, 2006
مقدر کو ایک پل یا شاید پل کا بھی ہزاروں حصہ لگتا ہے کسی انسان کو تخیل کی دنیا سے حقیقت کے تپتے ہوئے صھرا میں پٹختے ہوئے۔ ایک ایسی حقیقت جیس سے اُس شخص کے ہاتھ میں پکڑے امید کے سارے دیے ہی بج جاتے ہیں اور وہ حیراں ہو کہ یہ اچانک اُس کے ساتھ ہوا کیا۔